غزل
جب کبھی اس کی یاد آئی ہے
سو بہاریں جلو میں لائی ہے
ہو نہ ہو اس کی یاد آئی ہے
عمر رفتہ کو ساتھ لائی ہے
بادۂ عشق کا سرور نہ پوچھ
اس نے پی کر مجھے پلائی ہے
کاش مل جائے پھر گنوانے کو
زندگی ہم نے جو گنوائی ہے
مجھ کو احساس رنگ و بو نہ ہوا
یوں بھی اکثر بہار آئی ہے
تابش مہر و ماہ ہے پھیکی
جب سے وسعت نظر نے پائی ہے
تیرے بندوں کو کیا ہوا یا رب
تجھ سے دعواے آشنائی ہے
اس سے ہم داد خواہ الفت ہیں
جو فقط محو خودنمائی ہے
لالہ و گل میں ڈھونڈھنے والو
اس نے صورت کبھی دکھائی ہے
شکوۂ نارسی و ناکامی
اعتراف شکستہ پائی ہے
حبیب احمد صدیقی