MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ بھی نظر کا دھوکا ہے یا کار نظر ہے کیا معلوم

غزل

یہ بھی نظر کا دھوکا ہے یا کار نظر ہے کیا معلوم
سطح پہ ذرے رقصاں ہیں یا موج گہر ہے کیا معلوم

کون نہ جانے محو ستم ہے نا حق شکوہ کیوں کیجیے
چرخ ہے یا اس پردے میں وہ عربدہ گر ہے کیا معلوم

وہ بھی ہیں کچھ کھوئے ہوئے سے جن کو واقف کہتے ہیں
ہستی کے اسرار نہاں کی کس کو خبر ہے کیا معلوم

راتوں کو اٹھ اٹھ کر ہمدم اک مدت سے روتا ہوں
میری آہ نیم شبی میں کیسا اثر ہے کیا معلوم

ہستی کا ہنگامہ بپا ہے سانس کے آنے جانے پر
عالم ضبط و تمکیں ہے یا رقص شرر ہے کیا معلوم

دیوانے تو دیوانے ہیں ان کو اپنا ہوش کہاں
عقل پہ جن کو ناز ہے اتنا ان کو مگر ہے کیا معلوم

ہجر کی شب طوفان ہجوم اشک میں اتنا ہوش کہاں
سینے میں ہے قلب کہ صرف دیدۂ تر ہے کیا معلوم

ہم نے تو رو کر ہی گزاریں گھڑیاں عمر فانی کی
ہو گا پاس درد و محبت ان کو اگر ہے کیا معلوم

مدت گزری اخترؔ کی پائی نہ کسی سے کوئی خبر
مر گیا وہ ناشاد کہ اب تک خاک بسر ہے کیا معلوم

اختر علی گڑھی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم