MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

غزل

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی
اب اگر کھولے تو ہم کو قید تنہائی ملی

زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیں
تب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی

موسم گل کی نئی تقسیم حیراں کر گئی
زخم پھولوں کو ملے کانٹوں کو رعنائی ملی

سطح دریا پر ابھرنے کی تمنا ہی نہیں
عرش پر پہنچے ہوئے ہیں جب سے گہرائی ملی

دوسروں کو سنگ دل کہنا بڑا آسان تھا
خود کو جب دیکھا تو اپنی آنکھ پتھرائی ملی

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم