MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا

غزل

پھولوں کی انجمن میں بہت دیر تک رہا
کوئی مرے چمن میں بہت دیر تک رہا

آیا تھا میرے پاس وہ کچھ دیر کے لیے
سورج مگر گہن میں بہت دیر تک رہا

میں روکتا رہا اسے چالاکیوں کے ساتھ
وہ اپنے بھولے پن میں بہت دیر تک رہا

جو شہ ملی تو دل مرا بیباک ہو گیا
نیرنگیٔ بدن میں بہت دیر تک رہا

آنکھوں میں آ گیا ہے مری بھی ذرا سا داغ
پھول اس کے پیرہن میں بہت دیر تک رہا

آیا نہیں ہے کھینچ کے لانا پڑا مجھے
دل یار کے وطن میں بہت دیر تک رہا

اس کے بغیر جیسے جہنم ہے زندگی
میں جنت عدن میں بہت دیر تک رہا

دونوں سے ساتھ ساتھ ملاقات ہو گئی
کچھ سرو کچھ سمن میں بہت دیر تک رہا

ذیشان ساحل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم