MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور

غزل

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور
کہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اور

خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم
کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور

پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم
پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور

ٹکرا رہی ہے سانس مری اس کی سانس سے
دل پھر بھی دے رہا ہے صدا اور پاس اور

اللہ اس کا لہجۂ شیریں کہ کیا کہوں
واللہ اس پہ اردو زباں کی مٹھاس اور

باندھا ہے اب نقاب تو پھر کس کے باندھ لے
اک گھونٹ پی کے یہ نہ ہو بڑھ جائے پیاس اور

غالبؔ حیات ہوتے تو کرتے یہ اعتراف
دور چراغؔ میں ہے غزل کا کلاس اور

چراغ شرما

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم