MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم

غزل

اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم
اس قدر خود کو ستانا بھی نہیں چاہتے ہم

ہم نے دل سے اسے باہر تو نکالا ہے مگر
اس کو ویرانہ بنانا بھی نہیں چاہتے ہم

میں ہوں کھنڈر در و دیوار بھی گر جائیں گے
اس کو دلہن سا سجانا بھی نہیں چاہتے ہم

اب تو سورج کی شعاعوں نے سمیٹا ہے بدن
اس کی بانہوں میں ٹھکانہ بھی نہیں چاہتے ہم

رات کی رانی میں بنتی رہی اس آنگن کی
خود کو شرطوں پہ مٹانا بھی نہیں چاہتے ہم

ساری حد پار کی ٔہے ہم نے محبت کی مگر
دشت میں کوئی دوانہ بھی نہیں چاہتے ہم

رنج و غم اشکوں کے شبنم ہی شغفؔ کافی ہیں
مثل خیرات خزانہ بھی نہیں چاہتے ہم

پروین شغف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم