غزل
اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم
اس قدر خود کو ستانا بھی نہیں چاہتے ہم
ہم نے دل سے اسے باہر تو نکالا ہے مگر
اس کو ویرانہ بنانا بھی نہیں چاہتے ہم
میں ہوں کھنڈر در و دیوار بھی گر جائیں گے
اس کو دلہن سا سجانا بھی نہیں چاہتے ہم
اب تو سورج کی شعاعوں نے سمیٹا ہے بدن
اس کی بانہوں میں ٹھکانہ بھی نہیں چاہتے ہم
رات کی رانی میں بنتی رہی اس آنگن کی
خود کو شرطوں پہ مٹانا بھی نہیں چاہتے ہم
ساری حد پار کی ٔہے ہم نے محبت کی مگر
دشت میں کوئی دوانہ بھی نہیں چاہتے ہم
رنج و غم اشکوں کے شبنم ہی شغفؔ کافی ہیں
مثل خیرات خزانہ بھی نہیں چاہتے ہم
پروین شغف