MOJ E SUKHAN

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا

ہم سفر زیست کا سورج کو بنائے رکھا
اپنے سائے سے ہی قد اپنا بڑھائے رکھا

شعلۂ یاد کو لپٹائے رکھا دامن سے
اس بہانے سے تجھے اپنا بنائے رکھا

لوگ آنکھوں سے ہی اندازۂ غم کرتے ہیں
ہم نے آنکھوں میں ترا وصل سجائے رکھا

اک یہی تو مرا ہم راز تھا تنہائی کا
درد کو دل کی حویلی میں چھپائے رکھا

اپنا انداز سفر سب سے جداگانہ رہا
آنکھوں میں شوق سفر دل کو سرائے رکھا

شہناز نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم