MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام

دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام

۔

حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب

دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام

۔

اللہ ری جسم یار کی خوبی کہ خودبخود

رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام

۔

دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک

باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام

۔

دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں

بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام

۔

ہے ناز حسن سے جو فروزاں جبین یار

لبریز آب نور ہے چاہ ذقن تمام

۔

نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں

شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام

۔

اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام

گلزار بن گئی ہے زمین دکن تمام

۔

اچھا ہے اہل جور کیے جائیں سختیاں

پھیلے گی یوں ہی شورش حب وطن تمام

۔

سمجھے ہیں اہل شرق کو شاید قریب مرگ

مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام

۔

شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ

حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطف سخن تمام

حسرت موہانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم