MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اگرچہ بول رہا ھے بڑے یقین کے ساتھ

اگرچہ بول رہا ھے بڑے یقین کے ساتھ
اسے خبر نہیں میں بھی ہوں سامعین کے ساتھ

فلک پہ چاند ستارے بھی رشک کرنے لگے
میں چل رہا تھا زمیں پر کسی حسین کےساتھ

مزید مجھ میں مسافت کی جب نہ تاب رہی
تو تھک کے سو گیا میں بھی وہیں زمین کےساتھ

گلوں کی اب کے گلستاں میں جب ہوئ تقسیم
تو مجھ کو” تیرہ "میں رکھا گیا نہ” تین” کے ساتھ

کھڑے تھے ہم بھی ترے جشن ۔تاج پوشی میں
دریدہ اپنے گریبان و آستین کے ساتھ

پھر آسماں کی نظر اس پہ پڑ گئ شاید
جبیں کا رابطہ ہونے لگا زمین کے ساتھ

خبر نہیں تھی مرے گھر کو راکھ کر دیگا
وہ میرا چائے کا پینا کسی حسین کے ساتھ

ہمارے پیار کی بس اتنی داستاں ھے سہیل
مکان ۔دل بھی جلا ڈالا ھے مکین کے ساتھ

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم