MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دل – Jab se bandha hai ishq ki zanjeer se dil

جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دل
اب سنبھلتا ہی کہاں ہے کسی تدبیر سے دل

عکس نے تیرے طلب اور زیادہ کر دی
میں یہ سمجھا تھا بہل جائے گا تصویر سے دل

ہم پہ شمشیر سے تسخیر کی تدبیر نہ کر
دل سے کشمیر نکالیں گے نہ کشمیر سے دل

شعبدہ باز ستمگر کے مشاغل دیکهو
تیر کو دل سے گزارے ہے کبھی تیر سے دل

یار یوں کر مرا لکھا ہوا خط کھول کے دیکھ
حرف بن بن کے اڑیں گے مری تحریر سے دل

مجھ سے ہوتا نہیں اب اپنی اداسی کا علاج
تو مسیحا ہے تو بہلا کسی تدبیر سے دل

کاٹ لہجے میں کچھ ایسی تھی مخاطب کے مرے
ٹکڑے ٹکڑے کیا الفاظ کی شمشیر سے دل

دلِ بیتاب کو تم خاک سنبھالو گے حسن
جب سنبهالا نہ گیا میر تقی میر سے دل

احتشام حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم