جب سے باندھا ہے ترے عشق کی زنجیر سے دل
اب سنبھلتا ہی کہاں ہے کسی تدبیر سے دل
عکس نے تیرے طلب اور زیادہ کر دی
میں یہ سمجھا تھا بہل جائے گا تصویر سے دل
ہم پہ شمشیر سے تسخیر کی تدبیر نہ کر
دل سے کشمیر نکالیں گے نہ کشمیر سے دل
شعبدہ باز ستمگر کے مشاغل دیکهو
تیر کو دل سے گزارے ہے کبھی تیر سے دل
یار یوں کر مرا لکھا ہوا خط کھول کے دیکھ
حرف بن بن کے اڑیں گے مری تحریر سے دل
مجھ سے ہوتا نہیں اب اپنی اداسی کا علاج
تو مسیحا ہے تو بہلا کسی تدبیر سے دل
کاٹ لہجے میں کچھ ایسی تھی مخاطب کے مرے
ٹکڑے ٹکڑے کیا الفاظ کی شمشیر سے دل
دلِ بیتاب کو تم خاک سنبھالو گے حسن
جب سنبهالا نہ گیا میر تقی میر سے دل
احتشام حسن