ایسے ہے لفظ پیار کا نفرت کے آس پاس
جیسے چراغ جلتا ہو ظلمت کے آس پاس
شاید انہیں کسی کے لبوں نے چھوا نہیں
بکھرے پڑے ہیں جام محبت کے آس پاس
پیاسی لہو کی ہونے لگی ہیں قرابتیں
ایسی بھی آیتیں ہیں قیامت کے آس پاس
خاموشیوں کی گونج ہے یا تیز دھڑکنیں
کیوں شور سا مچا ہے یہ خلوت کے آس پاس
ہم سب شکست و فتح کے ہیں درمیان گم
باریک سا حجاب ہے قسمت کے آس پاس
جھوٹی گواہیوں سے سزاوار ہو گئے
ایمان بک رہے ہیں عدالت کے آس پاس
سوچا تھا ہم بھی ایک نیا گھر بنائیں گے
کیسے بنے تھے خواب وہ ہجرت کے آس پاس
بھوکا تو تھامگرنہ تھا لب پر کوئی سوال
خوداری بھی عجیب ہےغربت کے آس پاس
اتنے تھے خوش گمان سکوں کی تلاش میں
ہم گھومتے رہے ہیں کرامت کے آس پاس
الفاظ کا چناو ہی خاور نہیں کمال
لہجہ بھی ہو دلیل خطابت کے آس پاس
ندیم خاور