MOJ E SUKHAN

محبتوں میں شناسائیوں کے موسم دے

محبتوں میں شناسائیوں کے موسم دے
مرے خدا مجھے رعنائیوں کے موسم دے

کلی جو پھول ہوا چاہتی ہے گلشن میں
مرے خدا اسے انگنائیوں کے موسم دے

وصال اس کا مجھے راس آ نہیں سکتا
مجھے ہمیشہ وہ تنہائیوں کے موسم دے

مرے وجود سے لپٹی تری خیال کی آنچ
مرے خیال کو انگڑائیوں کے موسم دے

میں اس کے نام کی حرمت میں جاں بہ لب خاموش
وہ میرے نام کو رسوائیوں کے موسم دے

دیارِ عشق میں تنہا غریب بیٹھا ہوں
مجھے بھی انجمن آرائیوں کے موسم دے

ترے خیال کی خوشبو ترے جمال کا رنگ
دل و نظر کو جو شہنائیوں کے موسم دے

نصیب فکرِ رسا کو ہو اور توانائی
مرے خدا مجھے دانائیوں کے موسم دے

میں کم نگاہوں کی بستی میں آ گیا ہوں نظر
مرے خدا انہیں بینائیوں کے موسم دے

نظر فاظمی


Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم