غزل
اس خرَد کے ہر اک خراب میں تو
یعنی کے ہر ہی یار باب میں تو
دل بھی کرتا ہے اب مرا نخرے
یعنی اس دل کے اضطراب میں تو
میں نے پوچھا تھا اک سوال فقط
اور الجھا ہے کس جواب میں تو
ریت میں جیسے کوئی ذرہ ہو
ایسے رہتا ہے بہتے آب میں تو
اک خیال آیا تھا مجھےکے یوں
گھر گیا کس لیے عذاب میں تو
پوری دنیا کو بیر مجھ سے ہے
یہ بتا کس کے ہے نصاب میں تو
دن نکل آئے گا یہ سوچا تھا
آ گیا پھر سے میرے خواب میں تو
اک جھلک دیکھنے کو اے ساقی
آج شامل ہے اس شراب میں تو
کیا ملا تجھ کو کچھ بتا دے سہل
کیوں رہا عمر بھر سراب میں تو
آصف سہل مظفر
Asif Sehal Muzaffar
