MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو

تری ہی طرح ہمیں یاد آنے والا ہو
ترے سوا بھی کوئی تو ستانے والا ہو

ہر ایک صبح یہی دل میں ہوک اٹھتی ہے
ہمیں بھی ناز سے کوئی جگانے والا ہو

وہ کس امید پہ گھر میں رہے کہ جس گھر میں
نہ آنے والا ہو کوئی نہ جانے والا ہو

ہر اک سے نظریں ملائی ہیں ان کے کوچے میں
کہ جیسے اب کوئی ہم کو بلانے والا ہو

ہے دوستوں کے لیے آئنہ نظر میری
نظر ملائے جو نظریں ملانے والا ہو

کہ جیسے کوئی بلا مجھ پہ آنے والی ہے
ہراس کہتا ہے کوئی بچانے والا ہو

چلوں تو ساتھ چلے اور رکوں تو ساتھ نہ دے
قدم قدم پہ کوئی دل بڑھانے والا ہو

کسی کو شہر میں اب ہم سے لاگ ہے نہ لگاؤ
کوئی تو ہم سے بھی نظریں بچانے والا ہو

ہمارے شہر میں کیا کیا سجے سجائے ہیں گھر
ہمارے گھر کو بھی کوئی سجانے والا ہو

کرار نوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم