MOJ E SUKHAN

( گوہر کے نام )

( گوہر کے نام )
کاش ایسا ہو
کبھی رات کو جلدی سوئیں
صبح اٹھیں
تو زمین پر
کسی موہوم بشارت کی طرح
اک نیا دن ہو
جسے خوف نہ ہو مرنے کا
جس کی چاہت بھری کرنوں کی سُپرداری میں
فاختاؤں کو کوئی ڈر نہ رہے، ڈرنے کا
جس کی خوشبوئی ہوئی آنکھوں کے نذرانے میں
گھر کھُلے چھوڑ کے جائیں میرے جانے والے
جز محبت نہ خریداری ہو بازاروں میں
دھوپ مامور ہو خود اپنی نگرانی پر
جبکہ تنہائی حفاظت پر ہو سنّاٹے کی
خواب ، امید کی توفیق سے بڑھ سکتا ہے
اور نیا دن تو کسی وقت بھی چڑھ سکتا ہے

حسین مجروح

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم