MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں
دیئے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں

یہ روح رقصِ چراغاں ہے اپنے حلقے میں
یہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا میاں

یہ آنکھ پردہ ہے اک گردشِ تحیر کا
یہ دل نہیں ہے بگولہ اچھل رہا ہے میاں

کبھی کسی کا گزرنا کبھی ٹھہر جانا
مرے سکوت میں کیا کیا خلل رہا ہے میاں

کسی کی راہ میں افلاک زیرِ پا ہوں گے
یہاں تو پاؤں سے صحرا نکل رہا ہے میاں

ہجومِ شوخ میں یہ دل ہی بے غرض نکلا
چلو کوئی تو حریفانہ چل رہا ہے میاں

تجھے ابھی سے پڑی ہے کہ فیصلہ ہو جائے
نہ جانے کب سے یہاں وقت ٹل رہا ہے میاں

طبیعتوں ہی کے ملنے سے تھا مزہ باقی
سو وہ مزہ بھی کہاں آج کل رہا ہے میاں

بدل رہی ہے مُضافاتِ گل کی آب و ہوا
کوئی ہماری بھی خاطر بدل رہا ہے میاں

غموں کی فصل میں جس غم کو رائیگاں سمجھیں
خوشی تو یہ ہے کہ وہ غم بھی پھل رہا ہے میاں

لکھا نصیرؔ نے ہر رنگ میں سفید و سیاہ
مگر جو حرف لہو میں مچل رہا ہے میاں ​

نصیر ترابی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم