MOJ E SUKHAN

ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میں

ظلم والوں سے محبت نہیں کرسکتا میں
ان گنہگاروں کی عزت نہیں کرسکتا میں

ہر غلط بات پہ میں آپ کی کہہ دو لبیک
اس طرح خونِ صداقت نہیں کرسکتا میں

وہ تو زخموں کو نمکدان بنا دیتے ہیں
دل کے زخموں پہ سیاست نہیں کرسکتا میں

بات سنتے ہی اُتر آتے ہیں گستاخی پر
اب تو بچوں کو نصیحت نہیں کرسکتا میں

اتنی پیاری ہے مجھے اپنے وطن کی مٹی
ہو قیامت بھی تو ہجرت نہیں کرسکتا میں​

منظر بھوپالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم