تپتے پتھر کی سلوں پر کوئی چشمہ لکھ دے
اس کڑی دھوپ کے آنگن کوئی سایہ لکھ دے
ان سرابوں سے کوئی موجِ رواں بھی ابھرے
خشک صحرا کے ورق پر کوئی دریا لکھ دے
آسمانوں سے مرے ساری بلائیں ٹل جائیں
اسم کوئی مری تقدیر میں ایسا لکھ دے
معجزہ کوئی مرے عہد میں بھی ظاہر ہو
میرا ماضی مری قسمت میں دوبارہ لکھ دے
سنگ و آہن کے مکانوں سے بہت دور کہیں
لبِ ساحل کوئی مٹی کا گھروندا لکھ دے
آنے والی کسی موہوم مسرت کی جگہ
میرے بچپن کا کوئی ٹوٹا کھلونا لکھ دے
بخش دے دوسروں کو دہر کی دولت ساری
مجھ کو بس شعر کی عظمت کا خزینہ لکھ دے
جمیل یوسف