MOJ E SUKHAN

دعا اور بد دعا کے درمیاں

دعا اور بد دعا کے درمیاں جب رابطے کا پل نہیں ٹوٹا
تو میں کس طرح پہنچا بد دعائیں دینے والوں میں
میں ان کی ہمنوائی پر ہوا مامور
ہم آواز ہوں ان کا
کہ جن کے نامئہ اعمال میں ان بد دعاؤں کے سوا کچھ بھی نہیں
ان کے کہے پر آج تک بادل نہین برسے
کبھی موسم نہیں بدلے
کوئی طوفاں، کوئی سیلاب ان کی آرزوؤں سے نہیں پلٹا
یہ ناداں، سارے مقتولوں کی فہرستیں اٹھائے آسماں کو دیکھتے ہیں
اور سمجھتے ہیں کہ دنیا ان کے نام اور شکل و صورت بھول جائے گی
وگرنہ قاتلوں کو خودکشی کرنا پڑے گی
اور یہ اتنے بہادر بھی نہیں ہوتے
تو جب تک آسمانوں اور ہمارے درمیاں حائل
ہجوم قاتلاں چھٹتا نہیں ہٹتا نہیں پردہ
دعا اور بد دعا کے لفظ ہم معنی رہیں گے
اب دعائے زندگی قاتل کو دیں
یا بد دعا خود کو

غلام محمد قاصر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم