MOJ E SUKHAN

سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھو

سکوں پیام اداؤں کو مہرباں دیکھو
سمجھ گئے تو کوئی اور آستاں دیکھو

وہی قیامتِ احساس ہے، جدھر جاؤ
وہی حکایتِ لبریز ہے، جہاں دیکھو

یہ زندگی ہے تمہاری، اگر خرید سکو
نہیں تو خیر، وہی راہِ رفتگاں دیکھو

یہ رنگ جن میں زمانوں کی آگ لرزاں ہے
یہ خوابکارئ جذباتِ رائیگاں دیکھو

یہ نرم خواب سفینے، جزیرہ ہائے تلاش
وہ ہم خرام کناروں کی بستیاں دیکھو

عذابِ دیدہ و دل سے نجات ممکن ہے
تو بھول جاؤ، مگر بھول کر کہاں دیکھو

محبوب خزاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم