MOJ E SUKHAN

دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے

دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے
تم نے تو ابھی کچھ نہیں دیکھا مرے آگے

آنکھیں جو کروں بند رلاتا ہے تصور
ہر دم ہے کھڑا یاد کا فتنہ مرے آگے

اک پیکرِ پیمانِ وفا ہے مرے پیچھے
مدہوش نگاہوں میں ہے کیا کیا مرے آگے

نفرت بھری رشتوں میں تو مذہب میں ہیں مسلک
اب ہونے لگا خون بھی سستا مرے آگے

کر دے گا کسی دن مری دنیا کو یہ صحرا
بہتا ہے امنگوں کا جو دریا مرے آگے

ارمانوں کی ضد ہو کہ تری دید کی خواہش
اب زور کسی کا نہیں چلتا مرے آگے

پتھر کے نگر رہتی ہوں اب سنگ بدن میں
وہ خود کو خدا اب نہیں کہتا مرے آگے

ساقی کی خطا کچھ نہیں مدہوش ہوں میں ہی
آ آ کے پلٹ جاتا ہے پیالہ مرے آگے

وحدت ہے نسیم عشق مرا میں ہوں قلندر
بستی مرے پیچھے ہے تو صحرا مرے آگے

نسیم بیگم نسیم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم