دنیا میں محبت ہوئی عنقا مرے آگے
تم نے تو ابھی کچھ نہیں دیکھا مرے آگے
آنکھیں جو کروں بند رلاتا ہے تصور
ہر دم ہے کھڑا یاد کا فتنہ مرے آگے
اک پیکرِ پیمانِ وفا ہے مرے پیچھے
مدہوش نگاہوں میں ہے کیا کیا مرے آگے
نفرت بھری رشتوں میں تو مذہب میں ہیں مسلک
اب ہونے لگا خون بھی سستا مرے آگے
کر دے گا کسی دن مری دنیا کو یہ صحرا
بہتا ہے امنگوں کا جو دریا مرے آگے
ارمانوں کی ضد ہو کہ تری دید کی خواہش
اب زور کسی کا نہیں چلتا مرے آگے
پتھر کے نگر رہتی ہوں اب سنگ بدن میں
وہ خود کو خدا اب نہیں کہتا مرے آگے
ساقی کی خطا کچھ نہیں مدہوش ہوں میں ہی
آ آ کے پلٹ جاتا ہے پیالہ مرے آگے
وحدت ہے نسیم عشق مرا میں ہوں قلندر
بستی مرے پیچھے ہے تو صحرا مرے آگے
نسیم بیگم نسیم