MOJ E SUKHAN

آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہے

Aaj Gumgashta khyalat nay chonkaya hay

غزل

آج گم گشتہ خیالات نے چونکایا ہے
پھر کوئی دشت جنوں سے مجھے لے آیا ہے

ذہن آوارہ نے احساس کو راہیں دے کر
منزل دار و رسن تک مجھے پہنچایا ہے

خوف نے لوٹ لی ہر گام پہ نبضوں کی اساس
در بدر روح کی گلیوں میں مرا سایہ ہے

حوصلے آج بھی میراث ہیں میرے دل کے
میں نے ہر گام پہ طوفان کو پلٹایا ہے

بے خطر کون چلا جانب منزل منظرؔ
کس کا لہجہ ہے جو ماحول سے ٹکرایا ہے

جاوید منظر Javed Manzar

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم