MOJ E SUKHAN

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں

غزل

آگ سی لگ رہی ہے سینے میں
اب مزا کچھ نہیں ہے جینے میں

آخری کشمکش ہے یہ شاید
موج دریا میں اور سفینے میں

زندگی یوں گزر گئی جیسے
لڑکھڑاتا ہو کوئی زینے میں

دل کا احوال پوچھتے کیا ہو
خاک اڑتی ہے آبگینے میں

کتنے ساون گزر گئے لیکن
کوئی آیا نہ اس مہینے میں

سارے دل ایک سے نہیں ہوتے
فرق ہے کنکر اور نگینے میں

زندگی کی سعادتیں اسلمؔ
مل گئیں سب مجھے مدینے میں

اسلم فرخی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم