احساس تیرے پیار کا جب بھی جواں ہوا
فرقت کا ایک لمحہ بھی مجھ پر گراں ہوا
کوئی نہیں یہاں بھی مرا درد آشنا ! ! ! !
گھر جس کو ہم سمجھتے تھے وہ بھی مکاں ہوا
اب کانپتی ہے اس کی زباں بولتے ہوئے
جو شخص اپنے وقت میں شعلہ بیاں ہوا
ملتی کہاں سے اتنی تن آسانیاں اسے
جو مفلسی کی گود میں پل کر جواں ہوا
دیتی رجب کسی کو میں الزام کس طرح
یہ دل تو اپنی ذات سے بھی بدگماں ہوا
رجب چودھری