MOJ E SUKHAN

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں

غزل

ادائے حیرت آئینہ گر بھی رکھتے ہیں
ہمیں نہ چھیڑ کہ اب تک نظر بھی رکھتے ہیں

نہ گرد و پیش سے اس درجہ بے نیاز گزر
جو بے خبر سے ہیں سب کی خبر بھی رکھتے ہیں

کہاں گیا تری محفل میں زعم دیدہ وراں
یہ حوصلہ تو یہاں کم نظر بھی رکھتے ہیں

قفس کو کھول مگر اتنا سوچ لے صیاد
بہت اسیر تیرے بال و پر بھی رکھتے ہیں

فرشتہ ہے تو تقدس تجھے مبارک ہو
ہم آدمی ہیں تو عیب و ہنر بھی رکھتے ہیں

خوشا نصیب کہ دیوانے ہیں تو ہم اے دلؔ
کمال نسبت دیوانہ گر بھی رکھتے ہیں

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم