MOJ E SUKHAN

اس جبیں پر جو بل پڑے شاید

اس جبیں پر جو بل پڑے شاید
یہ کلیجہ نکل پڑے شاید

سانس رکنے لگی ہے سینے میں
تم کہو تو یہ چل پڑے شاید

ضبط سے لال ہو گئیں آنکھیں
ایک چشمہ ابل پڑے شاید

ایک بجھتا دیا محبت کا
تیرے ملنے سے جل پڑے شاید

بات اب جو تمہیں بتانی ہے
دل تمہارا اچھل پڑے شاید

آنسوؤں سے دھلی ہوئی آنکھیں
دیکھ کر وہ مچل پڑے شاید

بیٹھ کر بات کیوں نہیں کرتے
کوئی صورت نکل پڑے شاید

بے رخی سے نہیں کرو رخصت
راستے میں اجل پڑے شاید

الماس شبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم