MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس دور میں سب اپنا چلن بھول گئے ہیں

غزل

اس دور میں سب اپنا چلن بھول گئے ہیں
حد یہ ہے کہ فن کار بھی فن بھول گئے ہیں

صیاد سنائیں تجھے کیوں کر وہی نغمے
ہم لہجہ ارباب چمن بھول گئے ہیں

ہے اپنی جگہ آج بھی ہر رسم زمانہ
لیکن ہمیں آئین وطن بھول گئے ہیں

منزل کے نشاں مر کے بھی وہ پا نہ سکیں گے
جو لوگ رہ دار و رسن بھول گئے ہیں

افسوس ملا ہے انہیں کب اذن رہائی
جب اہل قفس راہ چمن بھول گئے ہیں

کس طرح شکایت کریں بے تابئ دل کی
کیا ہم ترے ماتھے کی شکن بھول گئے ہیں

پرساں نہیں غربت میں مرا کوئی بھی کشفیؔ
شاید مجھے یاران وطن بھول گئے ہیں

کشفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم