MOJ E SUKHAN

اس کی جانب سے آزمائش تھی

اس کی جانب سے آزمائش تھی
میری جاں پہ بڑی نوازش تھی

مسکرا کر وہ دیکھ لے مجھ کو
میرے دل کی فقط یہ خواہش تھی

تشنگی بھر کے دیکھتا مجھ کو
بس یہی تو مری گزارش تھی

میں ترستا رہا محبت کو !
دشمنوں کی عجیب سازش تھی

درد سہتا رہوں خموشی سے
مرے احباب کی گذارش تھی

میں نہایا لہومیں جب ساربؔ
پتھروں کی وہ پہلی بارش تھی

رشید سارب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم