غزل
الجھنیں کروٹیں بدلتی ہیں
سل وٹیں جب کسی کو ڈستی ہیں
جب تماشا ہو رات بھر برپا
الجھی ڈوریں کہاں سلج ھتی ہیں
جل گئے جو وفا پہ کامل تھے
رات بھر شمعیں کیوں تھرکتی ہیں
ڈوبا سورج تو یہ ہوا معلوم
کیسے کرنیں یہاں پلٹتی ہیں
میرے اندر بھی میں ہی ہوں تب ہی
مجھ پہ خوشیاں جو یہ گرجتی ہیں
جن کے رہبر ہی کھودیں منزل کو
ان کی راہیں کہاں سنورتی ہیں
مجھ کو وحشت نے آ لیا پھر سے
حیرتیں چہرے سے چھلکتی ہیں
خواب ٹوٹا تو میں نے پھر جانا
ہجرتیں کیوں یہاں پنپتی ہیں
آصف سہل مظفر
Asif Sehal Muzaffar
