غزل
ان سے یوں رابطے نزول پڑے
راہ میں جابجا تھے پھول پڑے
کیا کہا عشق کے سفر پہ ہو
گر یہ سچ ہے تو دوست طول پڑے
جس پہ تصویر زندگی نہ لگے
ایسی دیوار دل پہ دھول پڑے
منکر خد و خال دکھتے ہو
جا تجھے آئنہ نزول پڑے
اس نے جوڑے میں پھول ٹانکنا تھے
اور ہم شاخ شاخ جھول پڑے
پاؤں دھرنے کی دیر تھی اس کے
اور پھر پانیوں پہ پھول پڑے
اس نے یوںہی بس اک نظر دیکھا
اور ہم تھے کہ راہ بھول پڑے
ندیم ناجد