MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ان کی دیرینہ ملاقات جو یاد آتی ہے

ان کی دیرینہ ملاقات جو یاد آتی ہے
چشم تر صورت پیمانہ چھلک جاتی ہے

دل میں آتے ہی سر شام تصور تیرا
رات ساری مری آنکھوں میں گزر جاتی ہے

یہ جنوں ہے کہ محبت کی علامت کوئی
تیری صورت مجھے ہر شے میں نظر آتی ہے

ساقیا جس پہ نوازش ہو کرم ہو تیرا
اس کے ہر جام کی تاثیر بدل جاتی ہے

جب بھی پلکوں پہ چمک جاتے ہیں یادوں کے چراغ
نبض کچھ دیر زمانے کی ٹھہر جاتی ہے

یہ بھی اک ان کی نگاہوں کا کرشمہ ہے مبینؔ
زندگی خواب کی صورت میں نظر آتی ہے

سید مبین علوی خیرآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم