MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر نہ اُٹھّا ہے کبھی دست دعا تیرے بعد

پھر نہ اُٹھّا ہے کبھی دست دعا تیرے بعد
یاد آیا ہی کہاں ہم کو خدا تیرے بعد

اب وہ منزل ہے کہ فرقت ہی بھلی لگتی ہے
تیری یادوں نے دیا خوب مزا تیرے بعد

کیسی نظروں سے یہ سب دیکھ رہے ہیں مجھ کو
جرم کیا ایسا کِیا میں نے بھلا تیرے بعد

وہ جو کہتے تھے خدا جوڑی سلامت رکھے
اب وہ دیتے ہی نہیں کوئی صدا تیرے بعد

فکر کپڑوں کی نہ اب بال بنانے کا خیال
سوچتے ہیں کہ سب اچھا ہی ہوا تیرے بعد

شاید اپنی ہی عبادت میں کمی تھی عابدٓ
کچھ یونہی تو نہیں رُوٹھا ہے خدا تیرے بعد

عابد رشید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم