MOJ E SUKHAN

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

غزل

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے
تو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتے

یہ میرے دوست مرے چارہ گر مرے احباب
نہ چھیڑتے تو مرے زخم بھر گئے ہوتے

کوئی نگاہ جو اپنی بھی منتظر ہوتی
تو ہم بھی شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے

اگر وہ میری عیادت کو آ گیا ہوتا
تو دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے ہوتے

ہمیں تو شوق سخن نے سمیٹ رکھا ہے
وگرنہ ہم تو کبھی کے بکھر گئے ہوتے

انہیں بھی مجھ سے محبت تو ہے نفسؔ لیکن
میں پوچھتا تو یقیناً مکر گئے ہوتے

نفس انبالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم