MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے

ایسی بارش ہے کہ رونے میں سہولت کم ہے
یوں بھی اس چھوڑنے والے کی نحوست کم ہے

آئنہ دیکھنے بیٹھوں تو چھلک پڑتا ہوں
عشق لاحق ہے مگر آنکھ میں وحشت کم ہے

میں جو اس دیپ کو مہتاب سمجھ بیٹھا ہوں
ہو نہ ہو نیند کی حالت میں بھی حیرت کم ہے

اچھے لوگو ! مرے معیار پہ آ کر دیکھو!
میں جو منہ پھٹ ہوں ،مرے خون میں نفرت کم ہے

وہ تو میں چاہنے والوں کا بھرم رکھتا ہوں
ورنہ درویش کو دنیا کی ضرورت کم ہے

ارشاد نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم