MOJ E SUKHAN

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے

غزل

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے
ہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گے

نیند بھری آنکھیں بھی دھوکہ دیتی ہیں
جاگو گے تو خواب کہاں سے آئیں گے

ان سے پردہ داری گھر میں مشکل ہے
فرصت کے لمحے ہیں آئیں جائیں گے

دھول ہوا جاتا ہے منظر راتوں کا
خوابوں کا معیار کہاں سے لائیں گے

سناٹا آوارہ پھرتا ہے گھر میں
ہم اس کو اب کام دلا کر جائیں گے

مندر مسجد گردوارے سب ششدر ہیں
اب رستے کے پتھر پوجے جائیں گے

دھوپ میں بیٹھے سینک رہے ہو اپنا بدن
یہ بھی منظر اب عریاں کہلائیں گے

سورج چھت سے اتر گیا تو کیا غم ہے
اندھیارے میں رندؔ کہیں سو جائیں گے

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم