غزل
با وقار لہجے میں پر اثر کہا جائے
دل کا حال کچھ بھی ہو مختصر کہا جائے
وسعت تخیل کو بال و پر کہا جائے
شوق کی بلندی کو بام و در کہا جائے
کیوں نہ ہم بدل ڈالیں کہنہ اصطلاحوں کو
کیوں نہ آج قاتل کو چارہ گر کہا جائے
زندگی کی راہوں میں کون ساتھ دیتا ہے
کس کو اس مسافت میں ہم سفر کہا جائے
جس طرف سے وہ گزریں بس وہ رہ گزر ٹھہرے
عام راستے کو کیوں رہ گزر کہا جائے
چاہے جس طرح کہئے ختم ہو نہیں سکتا
عشق وہ فسانہ ہے عمر بھر کہا جائے
وہ چمن ہو یا صحرا دونوں ایک جیسے ہیں
اک عجیب الجھن ہے کس کو گھر کہا جائے
دل کی روشنی کو لوگ کیوں سحر نہیں کہتے
وقت کے اجالے کو کیوں سحر کہا جائے
گمرہی کی منزل میں کس کو آج اے جوہرؔ
راہزن کہا جائے راہبر کہا جائے
چندر پرکاش جوہر بجنوری