MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے

غزل

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے
بڑی بربادیوں کے بعد یہ آباد ہوتا ہے

ٹھہر اے گردش دوراں وہ لب جنبش میں آتے ہیں
سراپا گوش ہو کر سن کہ کیا ارشاد ہوتا ہے

در ساقی سے آزاد دو عالم اٹھ نہیں سکتا
قیود مذہب و ملت سے رند آزاد ہوتا ہے

گزشتہ حال الفت کیا سنو گے کیا سناؤں گا
یہ قصہ کچھ کہیں سے کچھ کہیں سے یاد ہوتا ہے

پیام صد مصیبت جانتا ہوں اک تبسم کو
لرز جاتا ہوں جس دن خوش دل ناشاد ہوتا ہے

قفس کی تتلیوں اٹھو گلے مل لو لپٹ جاؤ
کہ قید زندگی سے اک اسیر آزاد ہوتا ہے

کہاں پہلی سی قیصرؔ رسم شاگردی و استادی
جو اک مصرع بھی کہہ لیتا ہے اب استاد ہوتا ہے

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم