MOJ E SUKHAN

بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوں

بہ ہر لمحہ پگھلتا جا رہا ہوں
نئے سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہوں

مری منزل مرے پیش نظر ہے
مگر رستے بدلتا جا رہا ہوں

مرے اشعار میرا آئنہ ہے
میں اپنا فن اگلتا جا رہا ہوں

کوئی صورت نکالو زندگی کی
کہ اب غم سے بہلتا جا رہا ہوں

سفر تو زندگی کی شرط ٹھہرا
نہ چلنے پر بھی چلتا جا رہا ہوں

سہارا دے رہی ہیں لغزشیں اب
کہ جامیؔ میں سنبھلتا جا رہا ہوں

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم