MOJ E SUKHAN

بے تعلق زندگی اچھی نہیں

بے تعلق زندگی اچھی نہیں
زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

آج بھی پایا ہے ان کو بد مزاج
صورت حالات ابھی اچھی نہیں

حسرت دل دیکھ آنکھوں میں نہ بیٹھ
اس قدر بے پردگی اچھی نہیں

میں نہ کہتا تھا دل خانۂ خراب
دلبروں سے دل لگی اچھی نہیں

سیر کیجے حسن کے بازار کی
ہاں مگر آوارگی اچھی نہیں

دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

یہ ہوا یہ ابر یہ سبزہ حفیظؔ
آج پینے میں کمی اچھی نہیں

حفیظ جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم