ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دی
تجلی نے تری واں وسعت کون و مکاں رکھ دی
خبر ہے تجھ کو اے باد بہاری درد مندوں کی
گلوں نے پیاس کی شدت سے کانٹوں پر زباں رکھ دی
چمن میں میرے ہی تنکوں پہ ہر بجلی کی نظریں ہیں
مری قسمت کہ پھر میں نے بنائے آشیاں رکھ دی
یہ ویرانہ یہ سناٹا یہ وحشت خیز خاموشی
عزیزوں نے مری میت کو کیا سمجھا کہاں رکھ دی
ماہر القادری