MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دی

ترے سجدے میں ہم نے اپنی پیشانی جہاں رکھ دی
تجلی نے تری واں وسعت کون و مکاں رکھ دی

خبر ہے تجھ کو اے باد بہاری درد مندوں کی
گلوں نے پیاس کی شدت سے کانٹوں پر زباں رکھ دی

چمن میں میرے ہی تنکوں پہ ہر بجلی کی نظریں ہیں
مری قسمت کہ پھر میں نے بنائے آشیاں رکھ دی

یہ ویرانہ یہ سناٹا یہ وحشت خیز خاموشی
عزیزوں نے مری میت کو کیا سمجھا کہاں رکھ دی

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم