MOJ E SUKHAN

تم اچھے تھے تم کو رسوا ہم نے کیا

تم اچھے تھے تم کو رسوا ہم نے کیا
پھر کہنا، کیا تم نے کہا، کیا ہم نے کیا

آنسو سارے پلکوں ہی میں جذب ہوئے
دریا کو تصویر دریا ہم نے کیا

اے میرے دل تنہا دل چپ چپ رہنا
پہلے بھی تو شور کیا، کیا ہم نے کیا

نقش گرو! کب ہم نے منظر بدلا ہے
چاندی بال اور چہرہ سونا ہم نے کیا

آنسو نے دل کا ہر داغ مٹا ڈالا
پانی سے پھر نقش ہویدا ہم نے کیا

خاک جو صحرا صحرا اڑتی پھرتی تھی
سر میں ڈالی، ایک تماشا ہم نے کیا

بعد اپنے اب کون بھلا یاں آئے گا
اپنے نام پہ ختم یہ خطبہ ہم نے کیا

توصیف تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم