MOJ E SUKHAN

تم بوجھ نہیں سکتے

مسلسل سانس لیتی ہے
مگر پھر بھی
وہاں موجود
ہر اک شخص کی خواہش ہے کہ
اک قبر کھودے
اور اُسے اُس قبر میں رکھ دے
کہانی ختم کردے
قبر پر کتبہ لگا کر گھر چلا جائے
اور اُس کتبے پہ
بس اِک لفظ لکھا ہو
ذرا بوجھو
کہ وہ اک لفظ کیا ہوگا
ذرا بوجھو
مگر تم کیسے بوجھو گے
کہ تم بھی تو
انہی لوگوں میں شامل ہو
جو ہاتھوں میں کدالیں لے کے
قبرستان جاتے ہیں۔۔۔۔

حمیرا راحت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم