Jab Bhi Moqa Mila Kia say Kia ho Gayee
غزل
جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئے
اور پھر ویسے ہی پارسا ہو گئے
بے خبر راستوں سے کچھ انجان لوگ
راہ میں یوں ملے راہنما ہو گئے
وقت کی آگ نے یوں جلایا ہمیں
خاک ایسے ہوئے کیمیا ہوگئے
زندگی کا سفر تیرا حاصل ہے کیا
سوچتے سوچتے ہی فنا ہوگئے
پھول جیسے حسیں جان سے پیارے لوگ
ساتھ پل بھر رہے اور جدا ہو گئے
لڑتے لڑتے ہم ان آندھیوں سے تقی
اس قدر تھک گئے خود ہوا ہو گئے
تقی حیدر تقی
Syed Taqi Haider Taqi