MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئے

Jab Bhi Moqa Mila Kia say Kia ho Gayee

غزل

جب بھی موقع ملا کیا سے کیا ہو گئے
اور پھر ویسے ہی پارسا ہو گئے

بے خبر راستوں سے کچھ انجان لوگ
راہ میں یوں ملے راہنما ہو گئے

وقت کی آگ نے یوں جلایا ہمیں
خاک ایسے ہوئے کیمیا ہوگئے

زندگی کا سفر تیرا حاصل ہے کیا
سوچتے سوچتے ہی فنا ہوگئے

پھول جیسے حسیں جان سے پیارے لوگ
ساتھ پل بھر رہے اور جدا ہو گئے

لڑتے لڑتے ہم ان آندھیوں سے تقی
اس قدر تھک گئے خود ہوا ہو گئے

تقی حیدر تقی

Syed Taqi Haider Taqi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم