MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا​

جو لمحہ رائگاں گزرا وہی تو کام کا تھا​
بہر نفس یہ زیاں عمرِ ناتمام کا تھا​

​یہ کیا ہوا کہ بھرے آسماں کے آنگن میں 
بچھڑ گیا جو ستارہ ہمارے نام کا تھا​

​بڑھا کے اُس سے رہ و رسم اب یہ سوچتے ہیں​
وہی بہت تھا جو رشتہ دعا سلام کا تھا​

​ہر اک کے بس میں کہاں تھا کہ سو رہے سرِ شام​
یہ کام بھی ترے آوارگانِ شام کا تھا​

​کوئی شجر، کوئی دیوار چاہتا تھا جمالؔ ​
سفر میں لوگ تھے جھگڑا مگر قیام کا تھا​

​جمالؔ احسانی​

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم