MOJ E SUKHAN

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے

جہاں عہد تمنا ختم ہو جائے
عذاب جاودانی زندگی ہے

رلاتی ہے مجھے کیوں چاندنی رات
یہی اک راز میری زندگی ہے

خلش ہو درد ہو کاہش ہو کچھ ہو
فقط جینا بھی کوئی زندگی ہے

ہلاک انجام تکمیل تمنا
بقائے آرزو ہی زندگی ہے

جگر میں ٹیس لب ہنسنے پہ مجبور
کچھ ایسی ہی ہماری زندگی ہے

وہ چاہے جس قدر بھی مختصر ہو
محبت کی جوانی زندگی ہے

امیدیں مر چکیں میں جی رہا ہوں
عجب بے اختیاری زندگی ہے

جوانی اور ہنگاموں سے خالی
یہ جینا ہے یہ کوئی زندگی ہے

گزاری تھیں خوشی کی چند گھڑیاں
انہیں کی یاد میری زندگی ہے

محبت دونوں جانب سے محبت
نہ پوچھو آہ کیسی زندگی ہے

عندلیب شادانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم