MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

حرف زن ہو جو کوئی پینے پر- Harf e zan ho jo koi peene par

حرف زن ہو جو کوئی پینے پر
چوٹ پڑتی ہے آبگینے پر

عشق جب کوئ مسئلہ ہی نہیں
سانپ کیوں لوٹتے ہیں سینے پر

ناخدائی کا بھید کھُلنے لگا
نوحہ خواں ہیں بھنور سفینے پر

جسے کہتے ہیں رنگ کالا لوگ
خوب جچتا ہے اُس کمینے پر

بد دعا اور دوستوں کے لیے
تُف ہے اُس آدمی کے جینے پر

شبِ وصلت بھی دونوں کُھل نہ سکے
ناگ بیٹھا رہا خزینے پر

دلِ عاشق ! اور اِس قدر بے داغ
کندہ کاری کرو نگینے پر

ہے بِنائے تعلقات آصف
ہفتہ ‘ دو ہفتے ‘ حد مہینے پر

آصف جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم