MOJ E SUKHAN

خشکی پہ رہوں گی کبھی پانی میں رہوں گی

غزل

خشکی پہ رہوں گی کبھی پانی میں رہوں گی
تا عمر اسی نقل مکانی میں رہوں گی

میں جسم نہیں حسن ہوں اے چشم ابد تاب
مر کر بھی محبت کی کہانی میں رہوں گی

تابندہ رہیں گے مری آنکھوں کے کنارے
اشکوں میں ڈھلی ہوں کہ روانی میں رہوں گی

اجداد کی قربت سے اٹھایا گیا مجھ کو
گویا میں بزرگوں کی نشانی میں رہوں گی

شعروں ہی پہ موقوف نہیں میری حقیقت
الفاظ سے بھاگوں گی معانی میں رہوں گی

اے شاعر دل سوز مرے دکھ کو بیاں کر
تا حشر تری شعلہ بیانی میں رہوں گی

اب گڑیا پٹولوں سے علاقہ نہیں ماہینؔ
بچپن سے نکل آئی جوانی میں رہوں گی

راشدہ ماہین ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم