MOJ E SUKHAN
No Record Found
جب بھی بارش ہوتی ہےبھیگی رت میں دل والوں کیاک ہی خواہش ہوتی ہے
عظمی جون
گناہوں سے نشو نما پاگیا دل
اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا
ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
تنگ آگئے ہیں کیا کریں اِس زندگی سے ہم
حیراں ہوں زِندگی کی انوکھی اُڑان پر
مبارک باد دینے جاؤں گا ترک تعلق کی
اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا
ہوا میں آئے تو لو بھی نہ ساتھ لی ہم نے
نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے