MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں

دشت میں دھوپ کی بھی کمی ہے کہاں
پاؤں شل ہیں مگر بے بسی ہے کہاں

لمس دشت بلا کی ہی سوغات ہے
مرے اطراف میں بے حسی ہے کہاں

خاک میں خاک ہوں بے مکاں بے نشاں
میرا ملبوس تن خسروی ہے کہاں

میرا سوز دروں مائل لطف ہو
مجھ میں شعلہ فشاں وہ نمی ہے کہاں

پھونک دے بڑھ کے جو تیرگی کا بدن
میری آنکھوں میں وہ روشنی ہے کہاں

صوت و حرف تمنا سے ہو با خبر
ایسی ادراک میں نغمگی ہے کہاں

ذوالفقار نقوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم