MOJ E SUKHAN

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا
کہ شام بیت گئی اور تو نہیں آیا

جہاں سے میں نے کیا تھا کبھی سفر آغاز
میں خاک دھول ہوا لوٹ کر وہیں آیا

وہ جس کے ہاتھ سے تقریب دل نمائی تھی
ابھی وہ لمحۂ موجود میں نہیں آیا

بس ایک بار مری نیند چھو گیا کوئی
پھر اس کے بعد ہر اک خواب دل نشیں آیا

بچھڑ کے تجھ سے تری یاد بھی نہیں آئی
مکاں کی سمت پلٹ کر مکیں نہیں آیا

فہیم شناس کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم